کیا عوام عمران خان اور نواز شریف دونوں سے مطمیئن ہے!

اینالاٹیکل ویو پوائنٹ: (پی ٹی آئی)سنیٹیڑ ولید نے کہاگلب پاکستان سروے کے مطابق جو لوگوں کی رائے ہےاس میں دونوں کے درمیان %3-%5 ہی فرق ہے اور یہ بھی اس وجہ سے ہے کہ بہت ے لوگ مزاحمت کو پسند کرتے ہیں۔جبکہ نواز شریف کی تقریر میں ادروں کونشانہ بنایا گیا ہےجو کے غلط ہے اور وہ ادروں میں تصادم پیدا کر ر یے ہیں۔
اس کےجواب میں (پی ایم این ایل تر جمان) محسن شاہ نوازرانجھا نے کہا کے ہی روایت تو خود عمران خان نے شروع کی جس کی وجہ سے یہ سب ہورہا ہےاور اصولی طور پہ اب ان کو جواب دینا ہو گابشیر میمن کو۔اور یہ خود ادروں کے خلاف بھارت میں ہونے واے ٹاک شوز میں تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اور یہ ہم کو کہ رہے ہیں۔
03-05-2018 میں حامد میر کے پروگرام میں خود انہوں نے کہا کہ الیکشن 2013 میں نوازشریف فوج کی وجہ سے جیت پائے۔ورنہ یہ اقتدار میں نہیں آتے۔ حالیہ تقریر میں عمران خان نے نواز شریف کی تقریر کو دشمنوں کی زبان بول رہے ہیں کےالفاظ کا استعمال کیا اور کہا کہ میں ایک ایک کو جیل میں بیھج کر رہوں گااوراین اراونہیں دوں گا۔۔ تو ایک وزیراعظم کے لیے اس طرح کے الفاظ کا استعمال ٹھیک ہے–دونوں کے بیانیہ میں کیا فرق ہے۔۔
ولیداقبال نے کہا کہ عمران خان نے تاریخی پہلوں بیان کیےاور نوازشریف نے ادروں کو تنقید کا نشانہ بنایا تو فرق ہے دونوں کے مواقف میں۔اوراگر یہ جلسے کرنا چا ہیتے ہیں تو کریں پر غیرآئنی اقدام سے نہیں بلکہ پرامن طریقے سے اور یہ ان کا حق ہے۔
محسن رانجھا نے کہا کہ عمران خان کی روایت کے مطابق سب ہو رہا ہے اور ہمارے جلسوں کا مقصد غیرآئنی اقدامات کو روکنا ہےنہ کہ کسی ادارےکو تنقید کا نشانہ بنانا اور آرٹیکل 16 کے مطابق یہ ہمارا حق ہےاور ہم اس تحریک کو آئین کی پاسداری کے مطابق چلائے گیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں