تعلیمی ادارے کھولنے کے نتائج،اساتذہ کورونا کا شکار ہونے لگے

پشاور : تعلیمی ادارے کھولنے کے نتائج،اساتذہ کورونا کا شکار ہونے لگے ۔تفصیلات کے مطابق ملک بھرمیں جامعات،کالجزاورسکولز کوروناوائرس کے باعث چھ ما ہ کی طویل بندش کے بعددوبارہ کھل گئے جبکہ تیس ہزارسے زائددینی مدارس میں بھی تعلیمی سر گرمیاں بحال ہوگئیں،پہلے مرحلے میں نویں سے بارہویں اوراس سے اوپرکی جماعتوں کے تمام اعلی تعلیمی اداروں میں کورونا سے بچائو کے ایس او پیز کے ساتھ تعلیمی سر گرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
حکومت کی طرف سے جاری قواعدوضوابط کے مطابق تمام اساتذہ اورطلبہ کے لئے ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ داخلی دروازوں پرسینیٹائزرکی دستیابی یقینی بنائے گی۔ پہلے روز تعلیمی اداروں میں آنے والے طلبہ کی تعداد معمول سے کم رہی تاہم طلبہ تعلیمی سر گرمیاں بحال ہونے پر پر جوش نظر آئے ۔

ایک ہی سرکاری سکول کے 7 اساتذہ میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی۔اساتذہ کا تعلق گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1 کینٹ سے ہے۔محکمہ تعلیم کے مطابق ایک ہفتہ قبل اساتذہ کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے تھے۔کورونا سے متاثرہ اساتذہ میں سے کوئی بھی طلباٰء سے نہیں ملا۔ان اساتذہ کے دوبارہ کورونا ٹیسٹ بھی کیے جائیں گے۔تمام اساتذہ کے ٹیسٹ سے متعلق محکمہ صحت سے بات ہو چکی ہے۔بتایا گیا ہے کہ کورونا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر اساتذہ کو گھروں میں قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔گذشتہ روز اسلام آباد میں کورونا کیسز رپورٹ ہونے پر تعلیمی ادارہ سیل کر دیا گیا۔مزید بتایا گیا ہے کہ وفاقی دار الحکومت میں کورونا کیسز رپورٹ ہونے پر ایک تعلیمی ادارے کو سیل کر دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں