)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ راولپنڈی کی جانب لانگ مارچ کی کوئی وجہ نظرنہیں آتی

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ راولپنڈی کی جانب لانگ مارچ کی کوئی وجہ نظرنہیں آتی،مولانا فضل الرحمن آنا چاہئیں تو ہم چائے پلائیں گے ، پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوت دنیا کے سامنے پیش کردیئے ہیں،70سےزائد ممالک کے ساتھ خفیہ معلومات شیئر کی گئیں،بھارت کے خلاف ای یوڈس انفارمیشن لیب کے ذریعے شواہد سامنے آچکے،پوری دنیا بالخصوص خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار ریاست کا ثبوت دیا ،شرپسند عناصر بلوچستان کے حالات خراب کرنا چاہتے ہیں ،ایف سی کی نفری بڑھادی ہے تاہم چپے چپے پر اہلکار کھڑے نہیں کرسکتے ،آرمی جنرل قمرجاوید باجوہ رواں ہفتے کوئٹہ کا دورہ کریں گے۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی میجر جنرل بابر افتخار نے کہاکہ کانفرنس کا مقصد ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کے ساتھ ساتھ تقریباً ایک دہائی کے سیکیورٹی چیلنجز کا جائزہ اور دیگر اہم امور پر آپ کو آگاہی دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سال ہر لحاظ سے پاکستان کے لیے بہت چیلنجز وقت تھا، صرف 2020 میں ہی سیکیورٹی چیلنجز کے علاوہ ٹڈی دل اور کووڈ 19 جیسی وبا نے پاکستان کی معیشت اور خوراک کے تحفظ کو بھی خطرے میں ڈالے رکھا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ گزشتہ دہائی میں ایک طرف مشرقی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی شرانگیزی جاری تھی تو دوسری طرف مغربی سرحد پر کالعدم دہشت گرد تنظیموں ان کے جوڑ توڑ اور پشت پناہی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کیا جارہا تھا، اس تمام چیلنجز کے باوجود ریاست، تمام قومی اداروں، افواج پاکستان، انٹیلی جنس ایجنسیز اور سب سے اہم پاکستانی عوام نے متحد ہوکر ان مشکلات کا مقابلہ کیا اور بحیثیت قوم اللہ نے ہمیں سرخرو کیا۔انہوں نے کہا کہ مغربی سرحد پر قبائلی اضلاع میں امن و امان کی بحالی کے ساتھ ساتھ سماجی معاشی منصوبوں کا آغاز کیا جاچکا ہے، پاک افغان اور پاک ایران سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے مربوط اقدامات کیے گئے، دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن سے سیکیورٹی کی صورتحال بہت بہتر ہوئی۔میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ بھارت کے مذموم عزائم ہوں یا پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وارفیئر کی ایپلی کیشن، خطرات اندرونی ہوں یا بیرونی ہم نے ہمیشہ ثبوتوں اور حقائق کے ذریعے ان کی نشاندہی کی اور کامیابی سے ان کا مقابلہ کیا اور اس کو اب دنیا بھی مان رہی ہے کیونکہ سچ ہمیشہ غالب آتا ہے۔انہوں نے کہاکہ آج ملک میں کوئی آرگنائزرڈ انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے ،ردالفساد میں غیر قانونی بارود اور اسلحہ کا بڑی حد تک خاتمہ کیا گیا ،تین سال میں تین لاکھ اکہتر ہزار آپریشن کیے گئے سال 2019 کے مقابلے میں2020 میں دہشت گردی کے واقعات میں 45فیصد کمی آئی اورآج تمام قبائلی علاقے کے پی کاحصہ بن چکے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ 18ہزارسے زائد دہشت گردوں کا خاتمہ کیاگیا،ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار نے کہاکہ کراچی میں دہشت گردی میں 95 فیصد کمی آئی،کراچی میں اغوا برائے تاوان میں 98 فیصد کمی آئی ،خود کش حملوں پر قابو پایا گیا اور خودکش حملوں میں 97 فیصد واضح کمی آئی جس سے امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ۔ڈی آئی ایس پی آر نے کہاکہ70سےزائد ممالک کے ساتھ خفیہ معلومات شیئر کی گئیں ، بھارت کے خلاف ای یوڈس انفارمیشن لیب کے ذریعے شواہد سامنے آچکےاورپاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیے ہیں،فیک این جی او ز کےذریعے پاکستان کے خلاف سیمینارز کیے گئے۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کامیابی کو اگر دیکھا جائے تو 2007 اور 2008 میں قبائلی اضلاع پر صرف 37 فیصد علاقے میں ریاستی عملداری رہ چکی تھی، آج تمام قبائلی اضلاع مکمل طور پر خیبرپختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں، دہشت گردی کے بڑے واقعات میں 2019 کی نسبت 2020 میں 45 فیصد کمی آئی، مزید یہ کہ 2013 میں سالانہ اوسطا 90 حملے تھے جو آج گھٹ کر 13 پر آ گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں 883ترقیاتی منصوبوں پرکام جاری ہے جبکہ بلوچستان میں 199ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں حالیہ واقعہ افسوسنا ک ہے،کچھ عناصر صوبے میں امن خراب کرنے کی ناپاک کوششیں کررہے ہیں ۔ہم نے بلوچستان میں ایف سی استعداد میں اضافہ کیاگیا،تاہم بلوچستان کے چپے چپے پر سکیورٹی افسر کھڑا نہیں کیا جاسکتا ۔ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ رواں ہفتے کوئٹہ کا دورہ کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ فوج کے خلاف الزامات میں حقیقت پرردعمل دیاجاتاہے،فوج کا بہترین طریقے سے مورال بلند ہے ۔انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ کی روالپنڈی آنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔انہوں نے کہاکہ فوج کیخلاف بولنے والوں کو جواب دینے کی ضرورت نہیں اور اگر کوئی یہاں آتا ہے تو ہم آنیوالوں کو چائے پلائیں گے ۔ مولانا فضل الرحمان بھی راولپنڈی آنا چاہئیں تو ہم انہیں بھی چائے پلائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں