نگورنوکاراباخ: آذربائیجان، آرمینیا اور روس کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا

نگورنو کارباخ تنازع پر آذربائیجان، آرمینیا اور روس کے درمیان امن معاہدے طے پاگیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق آرمینیا کے وزیراعظم نکل پشینین نے نگورنوکاراباخ تنازع پر روس اور آذربائیجان کے ساتھ امن معاہدے طے پانے کا اعلان کیا اور اسے ایک تکلیف دہ معاہدہ قرار دیا۔
آرمینیا کے وزیراعظم نے منگل کے روز اپنے فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے امن معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایک مشکل فیصلہ کیا ہے جو ذاتی طور پر میرے لیے اور ہم سب کے لیے انتہائی مشکل ہے۔
یہ بھی پڑھیں
نگورنوکاراباخ: آذربائیجان نے بڑی کامیابی حاصل کرلی
نگورنو کاراباخ پر آخر تک لڑیں گے: صدر آذربائیجان
نگورنو کاراباخ تنازع: آذربائیجان اور آرمینیا ایک بار پھر کشیدگی کم کرنے پر راضی
انہوں نے کہا کہ میں نے روس کے صدر اور آذربائیجان کے ساتھ جنگ روکنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا اطلاق دوپہر ایک بجے سے ہوگا۔
آرمینیا کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے معاہدے پر دستخط کا فیصلہ عسکری صورتحال کا انتہائی باریک بینی سے جائزے کی بنیاد پر کیا اور مجھے یہ اعتماد ہے کہ موجودہ صورتحال میں یہی بہترین حال ہے۔
دوسری جانب معاہدے کے کچھ دیر بعد آذربائیجان کے صدر نے بھی اس کی تصدیق کی۔
روسی صدر سے آن لائن میٹنگ میں الہام علییف کا کہنا تھا کہ نگورنو کاراباخ پر سہ فریقی معاہدہ اس تنازع کو حل کرنے کے لیے اہم نقطہ ثابت ہوگا۔
آذربائیجان کے صدر نے کہا کہ معاہدے کے تحت بغیر کسی خونریزی کے ہمارے علاقے ہمیں واپس ملیں گے جب کہ خطے میں آذربائیجان کے ان علاقوں میں جہاں آرمینین آباد ہیں وہاں تمام فوجی آپریشن روک دیے گئے ہیں۔
الہام علییف کا کہنا تھا کہ آج فخر کے ساتھ معاہدے پر دستخط کررہا ہوں جس پر اپنے عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔
اس حوالے سے روس کے صدر پیوٹن نے کہا کہ نگورنو کاراباخ کی کنٹیکٹ لائن اور خطے کو آرمینیا سے جوڑنے والی راہداری پر روس کے امن مشن فوجی دستے تعینات کیے جائیں گے۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ سیز فائر معاہدے میں جنگی قیدیوں اور لاشوں کے تبادلے کی شرائط بھی شامل ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہےکہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 6 ہفتوں سے جاری جنگ میں تقریباً ایک ہزار افراد جان سے گئے۔
معاہدے پر رد عمل
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے معاہدے پر آذربائیجان میں شہریوں نے جشن منایا اور سڑکوں پر نکل آئے جب کہ معاہدے پر آرمینیا میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
آرمینیا میں سیکڑوں مظاہرین نے پارلیمنٹ اورسرکاری عمارتوں کے باہر احتجاج کیا جب کہ مظاہرین نے وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے اندر داخل ہو کر توڑ پھوڑ بھی کی۔
واضح رہےکہ گزشتہ روز آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے دعویٰ کیا تھا کہ آذری فورسز نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے نگورنو کاراباخ کے دوسرے بڑے شہر شوشا کو آرمینیا سے آزاد کرالیا ہے تاہم آرمینین حکام نے اس دعوے کی نفی کرتے ہوئے کہا تھا کہ علاقے میں شدید لڑائی جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں