امریکی جریدے فارن پالیسی میگزین نے لداخ میں بھارتی فوج کی ناکامی کا پول کھول دیا

امریکی جریدے فارن پالیسی میگزین نے لداخ میں بھارتی فوج کی ناکامی کا پول کھول دیا، چین کے ساتھ کشمکش میں انڈین آرمی کو لینے کے دینے پڑ گئے، بھارت چین کو پیچھے دھکیلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، بدترین معیشت والا ملک طویل جنگ لڑنے کے قابل نہیں۔
امریکی جریدے فارن پالیسی میگزین کے مطابق بھارت اور چین کے درمیان لداخ کا تنازعہ برقرار ہے، گزشتہ مئی میں شروع ہونیوالے بحران نے جون کے وسط میں سنگین صورتحال اختیار کرلی، دونوں ممالک کی افواج میں تصادم سے 20 بھارتی اور متعدد چینی فوجی ہلاک ہوگئے۔ 6 نومبر کو دونوں ممالک کے درمیان آخری بات چیت ہوئی جو بے نتیجہ ختم ہوگئی۔ سرد ترین مقام لداخ میں دونوں ممالک کی فوج ایک دوسرے کے سامنے ہے۔
جریدے کے مطابق بھارت کی جانب سے معاشی پابندیاں چین کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتیں، بھارت کسی بھی فوجی تنازع کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ چین کے ساتھ جنگ سے بھارت کو اپنے مختارانہ خارجہ پالیسی سے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے، بھارت کے پاس دوسرا آپشن کھل کر دفاعی پوزیشن لینا ہے۔ فوجیوں کی بڑی تعداد کی تعیناتی کا مقصد چین کو مزید پیشرفت سے روکنا ہے۔
سرد ترین موسم، علاقے کا جغرافیہ اور لاجسٹک سپورٹ کے لحاظ سے بھارت چین کی نسبت زیادہ مشکل پوزیشن میں ہے۔ 13 لاکھ سے زائد فوج کیلئے بھارت کو ایک بڑا بجٹ مختص کرنا پڑتا ہے۔ چین کے ساتھ کسی بھی تنازع کی صورت میں بھارت کو مزید بجٹ درکار ہوگا۔ بھارت کی کمزور معیشت اس کی متحمل نہیں۔
بھارتی بحریہ کے بجٹ میں کمی اس کی واضح مثال ہے۔ بھارت 200 بحری جہاز کی جگہ صرف 175 جہاز پر ہی اکتفا کر رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں