امریکا، ٹک ٹاک کا کنٹرول چھوڑنے کے لیے تیار

چین کی ٹیکنالوجی کمپنی امریکا میں ٹک ٹاک کا کنٹرول چھوڑنے کے لیے تیار ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹک ٹاک کے شمالی امریکا اور آسٹریلیا میں آپریشنز کی فروخت کے معاہدے کا اعلان آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے۔
یاد رہے کہ مائیکروسافٹ، اوریکل اور ایک ‘تیسری امریکی کمپنی’ نے ٹک ٹاک کو خریدنے کے لیے پیشکشیں کی ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ریٹیل کمپنی وال مارٹ مائیکروسافٹ کے ساتھ مل کر ٹک ٹاک کو خریدنے کے عمل کا حصہ بن رہی ہے۔
یاد رہے کہ نئی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک کے امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوی لینڈ کے بزنس کی مالیت 30 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے۔
اس حوالے سے وال مارٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کا ماننا ہے کہ ٹک ٹاک میں اشتہارات کے اضافے سے ان مارکیٹس میں کریٹیئر اور صارفین کو واضح فائدہ ہوگا۔
جبکہ ای کامرس میں ایک نئے موڑ کا اضافہ ہوسکے گا۔
خیال رہے کیونکہ یہ رپورٹ اس خبر کے بعد سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجوزہ پانبید کے باعث ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او)کیون اے میئر نے استعفیٰ دے دیا۔
معروف انٹرٹینمنٹ کمپنی والٹ ڈزنی کے سابق کنزیومر ڈائریکٹر 58 سالہ کیون اے میئر 2 ماہ قبل ہی ٹک ٹاک کے سی ای او تعینات ہوئے تھے۔
اس حوالے سے ٹک ٹاک نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 6 اگست کے ایگزیکٹیو آرڈر کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ‘بغیر کسی شواہد کے اتنا سخت فیصلہ کیا گیا اور وہ بھی مناسب طریقہ کار کے بغیر۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ 6 اگست کو ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے ٹک ٹاک کو آئندہ 45 دن میں اپنے امریکی اثاثے کسی دوسری امریکی کمپنی کو فروخت کرنے کی مہلت دی تھی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ٹک ٹاک کے خلاف بندش کے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیے جانے کے بعد مائیکرو سافٹ، ایپل، ٹوئٹر اور اوریکل نامی امریکی کمپنیوں نے ٹک ٹاک کے امریکی اثاثے خریدنے میں دلچسپی بھی ظاہر کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں