پاکستان میں شعبہ صحت کی بہتری، ڈبلیو ایچ او 886 ملین ڈالر خرچ کرے گا

اس کے لئے ڈبلیو ایچ او اور وزارت صحت کے مابین کنٹری کوآپریشن سٹریٹیجیز(سی سی ایس )2020-2025ء پر دستخط ہو چکے ہیں۔
وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دستخط کی تقریب میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان، سیکرٹری صحت ڈاکٹر عامر اشرف خواجہ اور ڈبلیو ایچ او پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر ماہی پالا پلیتھا نے خصوصی شرکت کی۔
معاہدے کے اعلامیے کے مطابق حکمت عملی میں ایڈوانس یونیورسل ہیلتھ کوریج، ہیلتھ ایمرجنسی اور صحت مند آبادی کے سیکٹرز کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا گیا ہے۔
اس موقع پر معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے ڈبلیو ایچ او کی پاکستان کے لیے شعبہ صحت میں معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے شعبہ صحت کی بہتری میں عالمی ادارہ صحت کادیرپا عزم قابل ستائش ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمت عملی کے تحت پاکستان اور عالمی ادارہ صحت کے مابین شعبہ صحت کے حوالے سے تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کوویڈ۔19 پر قابو پانے سمیت دیگر ایمرجنسی و اصلاحاتی پروگرامز کے نفاذ میں ڈبلیو ایچ او کا اہم کردار ہے۔
اس مو قع پر ڈبلیو ایچ او پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر ماہی پالا نے کہا کہ پاکستان کے ہیلتھ و ڈویلپمنٹ شعبوں میں تحقیق کے بعد ڈبلیو ایچ او کی جانب سے سی سی ایس کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے شعبہ صحت میں بہتری کے لیے متعارف کردہ نئی اصلاحات بھی حکمت عملی کا حصہ بنائی جائیں گی۔
اس موقع پر سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر عامر اشرف خواجہ نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے پاکستان کے شعبہ صحت میں تعمیری کردار ادا کیا جارہا ہے۔ مالی و ٹیکنینکل وسائل کی موبلائزیشن میں ڈبلیو ایچ او پروگرامز انتہائی کارآمد رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں