اندھيروں ميں ملاقاتيں کرنےوالےچھوٹےقد کےلوگ ہيں،شیخ رشید

وزیرریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ آرمی چيف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتيں ميرے لئے اعزاز کی بات ہے، اندھيروں ميں ملاقاتيں کرنےوالےچھوٹےقد کےلوگ ہيں۔
لاہورمیں ہفتے کووفاقی وزیرریلوے شیخ رشید احمد نےپریس کانفرنس کرتےہوئےکہا کہ 15اکتوبرسےتمام پرانا ٹائم ٹیبل بحال کیاجارہاہےاور20اکتوبرسےفریٹ کی آن لائن بکنگ ہوگی۔انھوں نےکہا کہ جوکرپشن میں ملوث ہوااسےفارغ کرکے ہتھکڑی لگا کرجیل بھیجیں گے،حاضری کےلئے مفت کی تنخواہ لینے والوں کی چھٹی ہوجائےگی اورشناخت کا ٹینڈر ہوگا۔
شیخ رشید نےکہا کہ کسی شخص نے میری بات پر یہ نہیں کہا کہ غلط کہا،کسی کے کہنے پر کبھی بیان نہیں دیا،پاک فوج کا جانباز ہوں۔انھوں نے اپوزیشن پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ يہ قومی معاملات پرملتے ہيں اور ذاتی ايجنڈے پر بات کرتے ہيں، قوم يقين رکھے ميں جھوٹ نہيں بولتا۔
انھوں نےنوازشریف سے10 سوالات کئے۔ شیخ رشید رشید نے کہا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے اسامہ بن لادن سے کتنی ملاقاتیں کیں اورکتنی رقم لی۔ انھوں نے سوال کیا کہ اجمل قصاب کا ایڈریس غیر ملکی خبررساں ادارے کو کس نے دیا۔
انھوں نے پوچھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ملک سے باہر کیوں فون کرتے رہے،کالز کی تعداد بتائیں اورکیا ملک کے اندر خطرات تھے؟شیخ رشید نے نوازشریف سے پوچھا کہ لاہور سے سپریم کورٹ پر حملہ کرنے کے لیےبسیں کس نے بھجوائی۔
وزیرریلوے نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف بیماری کا بہانہ بناکر ملک سے باہر گئے،ووٹ کی بات کرتے ہیں لیکن کورٹ کی بات نہیں کرتے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ نوازشریف دور میں ڈان لیکس کے پیچھے کون تھا،آج اعتراف کیا توکل انکار کیوں کیا،سیف الرحمن سے قطر سے کتنے پیسے لئےاور الیکشن پر کتنے پیسے خرچ کئے۔
انھوں نے یہ بھی پوچھا کہ نیب پر پتھراؤکی منصوبہ بندی کتنے دنوں میں لندن سے کی۔ شیخ رشید نے سوال کیا کہ بے نظیربھٹوکی کردار کشی کےلئے پیٹر کے جعلی دستخط حسین حقانی کے دستخط سے کس نے جاری کیا۔وزیرریلوے نے نون لیگ کو دو روز میں ان سوالات کے جواب دینے کا کہہ دیا۔
شیخ رشید نے چیلنج دیا کہ سیاست میں 14 وزارتیں کیں،کوئی شخص نیب میں درخواست دے سکتاہے۔انھوں نے یہ بھی پیش گوئی کی کہ پیپلزپارٹی کسی قیمت پراستعفیٰ نہیں دے گی،نون لیگ کے جو لوگ استعفی دیں گے ان پر الیکشن کروائیں گے،جنوری تک سب سامنے آ جائے گا کہ اپوزیشن ٹائیں ٹائیں فش ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں