جن لیڈران کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کروایا گیا ان میں سے تین ملزمان گرفتاری دینے خود تھانے پہنچ گئے پولیس نے انہیں گرفتار کرنے سے انکار کر دیا۔

اینالائیٹیکل ویو پوائنٹ : 43 لیڈران کے خلاف بغاوت کا جو مقدمہ درج کیا گیا اس میں دو فورمر پرائم منسٹرز میاں نواز شریف , شاہد خاقان عباسی اور کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق کا نام بھی شامل ہے۔ ان لیڈران میں سے عطاء اللہ تارڑ , زبیر احمد اور مصدق ملک گرفتاری دینے تھانے پہنچ گئے ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم پر پرچہ ہے تو ہمیں گرفتار کیا جائے مگر پولیس نے انہیں گرفتار کرنے سے انکار کر دیا۔شاہد خاقان عباسی نے حکومت کو چیلنج دیا کہ اگر ہمارے خلاف پرچہ درج کروایا ہے تو یہ تسلیم کیجیئے دوسری طرف شبلی فراز نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے ذاتی مفاد کے لیے ہو رہا ہے پی ایم ایل این یہ سب کچھ اس لیے کر رہی ہے کہ حکومت ان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر راضی ہو جائے۔
مصدق ملک نے سوال اٹھایا کہ عمران خان نے جو کچھ تقدیر میں کہا وہی سب پرچہ میں بھی لکھا ہے۔ ان کے وزراء کانفرنس کرتے رہے اور کہتے رہے کہ یہ غدار ہیں غدار ہیں ۔مجھ پر بھی دہشت گردی کے دو پرچے کیے گئے۔ مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ اگر بغاوت اور محب الوطنی کے سرٹیفکیٹ حکومت نہیں دیتی تو کیا اپوزیشن نے دینا شروع کر دیئے ہیں۔ناز بلوچ نے کہا کہ اگر پینل کوٹ کے ایکٹ کو دیکھا جائے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ بغاوت کا مقدمہ تھانے میں کیسے کٹ سکتا ہے۔ یہ پرچہ تو تب تک نہیں کٹ سکتا جب تک سٹیٹ نہ چاہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کرنسی ڈیویلیو ہوتی ہے تو وزیراعظم کو نہیں پتا ہوتا۔ بغاوت کے پرچے کٹ جاتے ہیں تو بھی وزیراعظم کو نہیں پتا ہوتا۔ ابھی بشیر میمنن کی جو ویڈیوز چل رہی ہیں ان سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان کا فوکس صرف انتقام لینا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ وہ جب ڈی جی ایف آئی اے تھے تو اس وقت بولتے اب وہ ریٹائر ہوگئے ہیں تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ 43 لیڈران کے خلاف بغاوت کا مقدمہ ہوا ہے اور وزیراعظم کو پتا ہی نہیں۔ عندلیب عباس کا کہنا تھا کہ جنہوں نے یہ کیا انہیں بہت بےتابی تھی تب ہی وہ بول رہے ہیں کہ ہم تو سوچتے تھے کہ یہ آئیں گے یہ پکڑیں گے ہم تماشہ کریں گے اور دنیا کو دکھائیں گے اور ہم نے یہ سب ہونے نہ دیا اور اب وہ خود جاجا کر گرفتاریاں پیش کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں