افغانستان کے پرامن شہر بامیان میں دو بم دھماکوں سے 23 افراد ہلاک اور 59 افراد زخمی ہو گئے

میڈیا رپورٹ کے مطابق شہر میں 20سال کے بعد دہشتگردی کا اتنا بڑا واقعہ ہوا،بامیان صوبے کے دارالحکومت بامیان شہر میں منگل کی سہ پہر ساڑھے چاربجے دھماکے ٹیکسی سٹینڈ اور مارکیٹ کے قریب ہوئے جہاں عام طور پر رش ہوتاہے ۔متعدد زخمیوں کی حالت نازک ہے ،مرنیوالوں میں دو ٹریفک پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔افغان صحافی نے مقامی انتظامیہ اور انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دھماکوں میں 23 افراد ہلاک ہوئے ۔ افغان شہروں کے مقابلے میں بامیان کوسب سے زیادہ محفوظ تصور کیا جاتا ہے جہاں ہر سال ہزاروں سیاح آتے ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق شہر میں اس طرح کے ہلاکت خیر دھماکے پہلی بار ہوئے ہیں ،طالبان نے کہا دھماکوں کی مذمت کرتے ہیں،ہم اس میں ملوث نہیں۔ ادھر ہلمند کے ضلع ناوا میں طالبان کے حامی فوجی نے فائرنگ کرکے 5اہلکار ہلاک کردیئے ۔ خوست کے سرکاری دفتر میں دھماکے سے 5 افرادزخمی ہوگئے۔

نائب صدر امراللہ صالح کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کو کرپشن میں ملوث قرار دینے سے متعلق بیان پر افغان پارلیمنٹ کے ایوان زیریں وولسی جرگہ میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی،سپیکر رحمان رحمانی نے امراللہ صالح کو غیر ملکی ایجنٹ قراردیا،انہوں نے کہاکہ میں ثابت کرسکتا ہوں کہ گرین ٹرینڈ موومنٹ(صالح کی تنظیم کا نام) غیر ملکی ایجنسی کیلئے کام کرتی ہے ۔ارکان نے وزرا کی منظوری کا عمل روکتے ہوئے نائب صدر سے ثبوت طلب کرلیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں