ملک بھر میں فرقہ وارانہ انتشار کی سازش کے پیچھے کون!

اگر شیہ سنی کی حیثیت سے دیکھا جائے تو ہمارے علمائے کرام ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت کے ساتھ مکالمہ اور گفتگو کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے ہیں تو پھر یہ کون لوگ ہیں جو نفرت پیدا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی توہین کرتے ہیں۔
یہ سوال نجی ٹیلی وثزن کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی نے کیا۔ جس کے مہمان خصوصی مذہبی سکالر محمد حنیف جالندھری , پروفیسر ساجد , میر نقیب الرحمان , علامہ ناصر عباس , محمد تقی عثمانی , مفتی منیب الرحمان اور نورالحق قادری تھے۔
اس سوال کے جواب میں شیہ سکالر نے کہا کہ جب پاکستان بنا تو اس وقت ان تمام مکاتب فکر کی قیادت اہل علم اور اہل ذکر تھی۔ اہل علم اور اہل ذکر میں بھی فرق ہوتا ہے جب انسان علم حاصل کرنے کے بعد تربیتی مراحل سے گزرتا ہے , اس کا تزکیہ ہوتا ہے اس کے اندر تحمل اور بردباری پیدا ہوتی ہے تو پھر وہ اہل ذکر میں شامل ہوتا ہے اورعلم کا استفادہ ان لوگوں سے ہوتا ہے۔
انہوں نے حضرت مولانا سید محمد داؤ غزنوی ( آل پنجاب مسلم لیگ کے صدر) کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ اہل حدیث عالم دین تھے اور ان کی دوستی حضرت پیر سید جماد علی شاہ کے ساتھ تھی جوکہ اہل سنت عالم دین تھے اور اس وقت وہ اہل ذکر اور اہل علم بھی تھے۔
ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اس بارے میں کہا کہ کچھ عرصہ پہلے محرم الحرام میں صدر مملکت عارف علوی کے ساتھ ایک اجلاس میں مولانا نورالحق قادری اور دیگر مذہبی شخصیات موجود تھے اور وہاں گفتگو کرتے ہوئے صدر پاکستان نے کہا تھا کہ یہ جو آنے والا محرم الحرام ہے یہ معمول کا محرم الحرام نہیں ہے اور ہماری اطلاعات ہیں کہ ہمارے کچھ بیرونی مخالفین پاکستان کے اندر شیہ سنی فرقہ وارانہ فسادات کی کوششیں کر ریے ہیں اور یقینا اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طریقے سے سی پیک کے ساتھ پاکستان کی معشیت جڑی ہے تو سی پیک کا سارا علاقہ گلگت سے لے کر گوادر تک اس کے اندر کچھ فالٹ لائنز ہیں جن میں فرقہ واریت کی بنیاد پر تنازعات ہیں۔
تمام پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور تسلیم کرے اور ہر حال میں ریاست کے ساتھ وفاداری کے خلف کو نبھائے ۔ شہریوں کو چاہیئے کہ وہ آئین پاکستان کے تمام بنیادی حقوق کا احترام کریں جنمیں مساوات ,سماجی اور سیاسی حقوق ,اظہار خیال ,عقیدہ ,عبادت اور اجتماع کی آزادی شامل ہے۔
اسلام کے نفاذ کے نام پر جبر کا استعمال نہ کیا جائے اور کسی بھی فرد کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے کو کافر قرار ریے ۔
ہر فرد کو چاہیئے کہ وہ علاقائی , مزہبی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی بنیاد پر چلنے والی تحریکوں کا حصہ بننے سے گریز کرے ۔ کوئی شخص اپنے نظریات دوسروں پر مسلط نہ کرے کیونکہ یہ شریعت کی خلاف ورزی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں