’پڑوسی، بڑے دل کا مظاہرہ کرنے کا شکریہ‘، سوارا بھاسکر کی پاکستان کی تعریف

انڈیا میں کورونا وبا کی تباہ کاریوں کے بعد پاکستان نے اپنے دیرنہ حریف اور پڑوسی کو جذبہ خیرسگالی کے تحت ونٹی لیٹرز، ایکسرے مشین، ماسک اور دیگر پی پی ایز فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے جس کے بعد ٹوئٹر پر ’پاکستان سٹینڈ ود انڈیا‘ ٹرینڈ کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا سائیٹ پر پاکستان کے جانب سے جذبہ خیرسگالی کی تعریف کی جا رہی ہے اور بالی وڈ ایکٹر سوارا بھاسکر نے بھی پڑوسی ملک کی جانب سے اس جذبہ خیرسگالی کو سراہا ہے۔
سوارا بھاسکر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ پاکستان کا انڈین میڈیا کی جانب سے بدنام کرنے کی مہم چلانے کے باوجود ’بڑے دل کے پڑوسی‘ ہونے کا ثبوت دینے پر پر شکریہ ادا کرتی ہوں۔

سوارا باسکر نے لکھا ’’ یہ دیکھنا انتھائی خوشی کا باعث ہے کہ ان تباہ کن لمحات میں پاکستان کی سول سوسائٹی اور سوشل میڈیا انڈیا کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ہمدردری کر رہا ہے۔ یہ اس کے باوجود ہو رہا ہے کہ ہمارا میڈیا اور ہمارا عوامی بیانیہ مسلسل پاکستان کا مذاق اڑاتا اور بدنام کرتا رہا ہے۔ پڑوسی، آپ کے بڑے دل کے لیے شکریہ۔‘
سنیچر کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے انڈیا میں کورونا سے ہلاکتوں پر انڈیا کے ساتھ اظہار ہمدرادی کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا کی جانب سے درپیش چیلینج سے پاکستان اور انڈیا کو مل کر نمٹنا چاہیے۔
پاکستان کے سٹار کرکٹر شعیب اختر نے بھی اپنے یو ٹیوب چینل پر حکومت پاکستان اور اپنے پاکستانی فینز سے اپیل کی کہ وہ کورونا کی دوسری لہر سے نمٹنے میں انڈیا کی مدد کریں۔
شعیب اختر نے کہا کہ کورونا کے بحران میں انڈیا کو بین الاقوامی مدد کی ضرورت ہے۔
سوارا بھاسکر نے انڈیا کے لیے تشویش کا اظہار کرنے پر پاکستانی کرکٹر شعیب اختر کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے لکھا ’شعیب اختر جی ہم، آپ کی ہمدردی اور جذبہ انسانی کے بہت مشکور ہیں۔‘

پاکستانی گلوکارہ مومنہ مستحسن نے بھی حکومت پاکستان سے انڈیا کی مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ انڈیا کو کورونا سے نمٹنے کے لیے وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔
مومنہ مستحسن نے لکھا ’جیسا کہ انڈیا مین یومیہ ریکارڈ کیسز سامنے آرہے ہیں، یہ وسائل پر دباؤ کا سبب بن رہا ہے۔ کوڈ کے خلاف ہماری جنگ بھی تیز ہو رہی ہے لیکن کیا ہم اپنے پڑوسیوں کی مدد کرسکتے ہیں؟‘
انڈیا میں گزشتہ چار دنوں سے یومیہ تین لاکھ سے زائد کورونا کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ صحت کے حکام کے مطابق گزشتہ روز ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ مثبت کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ دو ہزار 767 اموات ہوئیں۔
ایک ارب 30 کروڑ آبادی کے ملک میں کورونا کی وبا تیزی سے پھیلی ہے اور دارالحکومت دہلی میں لاک ڈاؤن کی مدت میں ایک ہفتے کی توسیع کر دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ لاک ڈاؤن کی مدت بڑھائی جائے۔
انڈیا میں حکومت پر کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تیار نہ ہونے پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں