عید سے قبل امارات سے پاکستان واپسی کے منتظر ہزارو ں پاکستانی خوش ہو جائیں

سیرین ایئر نے 6 مئی سے لاہور تا دُبئی پروازیں شروع کرنے کا اعلان کر دیا، کرایہ باقی ایئر لائنز کے مقابلے میں کم ہوگا متحدہ عرب امارات میں 16 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں۔ ان میں سے ہزاروں افراد اس بار عید اپنے وطن جا کر منانے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔امارات میں مقیم پاکستانیوں کی خواہش ہے کہ انہیں واپسی کے لیے سستے سفر کی سہولت میسرآئے۔ اس حوالے سے اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان کی نجی ایئر لائن سیرین ایئر کی جانب سے دُبئی کے لیے پروازیں شروع کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
سیرین ایئر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 6 مئی سے لاہور اور دُبئی کے درمیان بین الاقوامی پروازوں کا آغاز ہو جائے گا۔ اس روٹ پر ہفتہ وار تین پروازیں چلائی جائیں گی۔ جس سے ہر سال لاکھوں پاکستان کو آرام دہ اور سستے سفر کی سہولت حاصل ہو گی۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل سیرین ایئر کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ 6 مئی کو لاہور سے دُبئی کے لیے بین الاقوامی پروازیں کے لیے بکنگ شروع کر دی گئی ہے۔ابتدائی طور پر اس رُوٹ کے لیے یکطرفہ ٹکٹ کا کرایہ 18 ہزار روپے ہو گا اور ہر ہفتے تین پروازیں روانہ ہوں گی۔ سیرین کی جانب سے چند ماہ قبل اسلام آباد اور شارجہ کے درمیان بھی فلائٹ آپریشن شروع کیا گیا تھا جس کے تحت ہفتہ وار تین پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔2017ء میں پاکستان میں اندرون ملک فضائی آپریشن شروع کرنے والی سیرین ایئر کے فضائی بیڑے میں چار بوئنگ 737 اور ایک ایئر بس 330A شامل تھی۔
تاہم حالیہ دنوں انتظامیہ نے ایک اور ایئر بس 330A لیز پر حاصل کر لی ہے۔ سیرین ایئر نے گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں ہی سعودیہ اور امارات میں ٹریول ایجنٹ نیٹ ورک قائم کر دیا تھا۔سیرین ایئرسرکاری ایئر فضائی کمپنی پی آئی اے اور نجی فضائی کمپنی ایئر بلیو کے بعد پاکستان کی تیسری بڑی ایئر لائن ہے۔ سیرین ایئرکی پاکستان بھر میں ہفتہ وار 112 فلائٹس چلتی ہیں۔
یہ ایئر لائن سال 2020ء کے دوران رجسٹرڈ ہوئی ۔ کورونا وبا کے دوران سیرین ایئر کی جانب سے امارات، کابل، ڈھاکہ کابل اور نانجنگ میں کورونا سے بچاؤ کا طبی سامان بھی خصوصی پروازوں کے ذریعے پہنچایا گیا ہے۔ سیرین ایئر لائن کے نمائندہ فیضان احمد کے مطابق ان کی نجی ایئر لائن نے دونوں خلیجی ممالک میں اپنے دفاتر قائم کر لیے تھے تاہم کورونا وبا کے باعث فلائٹ آپریشنز معطل ہونے کے باعث یہ پروازیں گزشتہ سال ممکن نہیں ہو سکی تھیں۔ جو اس سال بھرپور تیاریوں کے ساتھ شروع کی جا رہی ہیں۔ اگرچہ دُنیا بھر کورونا کی وبا نے ایوی ایشن انڈسٹری کو بھاری نقصان پہنچایا تھا تاہم پاکستانی فضائی کمپنیاں اس دوران کم متاثر ہوئی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں