فیس بک اور یو ٹیوب کو خلاف ورزیوں میں تعاون پر ذمہ دار قرار دیا جائیگا

فیس بک اور یو ٹیوب کو خلاف ورزیوں میں تعاون پر ذمہ دار قرار دیا جائیگا
گزشتہ دہائی کے دوران انٹر نیٹ پر مبنی ٹیکنالوجیز کے تیز ارتقاء نے کاروبار کی ترقی کیلئے بے مثال مواقع متعارف کئے ہیںگزشتہ دہائی کے دوران انٹر نیٹ پر مبنی ٹیکنالوجیز کے تیز ارتقاء نے کاروبار کی ترقی کیلئے بے مثال مواقع متعارف کئے ہیں۔خاص طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم مختلف کمپنیوں کیلئے ایک مارکیٹنگ اور اشتہاری ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے ۔یہ عام طور پر ویب سائٹس،سوشل میڈیا اکاوٴنٹس ،پیجز اور گروپ پر پروموشن،سیلز اور مارکیٹنگ کرتے ہیں،تاہم اسی دوران تکنیکی ترقی نے حریفوں اور کاروباری افراد کیلئے معروف برانڈز کے حقوق دانش کی خلاف ورزی کے نئے امکانات بھی پیدا کردیئے ہیں۔

اس صورتحال کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے ،ان اقدامات کو بھی سراہا جانا چاہیئے جو کہ فیس بک نے پلیٹ فارمز کی جانب سے ٹریڈ مارک کے بلا جواز غیر قانونی استعمال کو روکنے کے حوالے سے اٹھائے ہیں۔فیس بک اشتہارات اور مارکیٹ پلیس کی پوسٹوں کا لائیو جانے سے قبل جائزہ لیتا ہے ،ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے سگنلز کو شامل کیا جاتا ہے ،جیسے کہ برانڈ کا نام،لوگو ،کی ورڈز ،قیمت،ڈسکاوٴنٹ اور دیگر مشتبہ اشاریے، تاکہ ایسے مواد کا پتہ لگایا جاسکے اور اسے روکا جاسکے جو جعلی اشیاء فروخت کرسکتے ہیں۔

پالیسی چیک کی تعمیل نہ کرنے والے اشتہارات منظور نہیں کئے جاتے اور نہ ہی پلیٹ فارم پر صارفین کو دکھائے جاتے ہیں۔ایسے اشتہارات اور مارکیٹ پلیس پوسٹیں رائٹس منیجراور کامرس اینڈ ایڈز آئی پی ٹولز کے ساتھ اکٹھے سروس سے بلاک کردی جاتی ہیں۔
تاہم ،ان پالیسیوں کے باوجود کمپنی کے جعلی لوگو پر مشتمل مختلف اشتہارات یا مصنوعات کی منظوری دی گئی ہے اور پلیٹ فارم پر دکھائی بھی گئے ہیں۔
مثال کے طور پر،Tommy Hilfigerکی مصنوعات کے سینکڑوں جعلی امیجز منظور کئے گئے اور فیس بک و انسٹا گرام دونوں پر دکھائے گئے۔فیس بک نے اپنے صارفین کو Tommy Hilfigerکے ٹریڈ مارک کے بلا جواز غیر قانونی استعمال کا موقع فراہم کیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ فیس بک نے اپنے صارفین کی جانب سے مزید خلاف ورزیوں کو روکنے کے حوالے سے ضروری اقدامات نہ اٹھا کر خود اپنے ہی حقوق کی خلاف ورزی کی ۔
متبادل کے طور پر PHV(Tommy Hilfiger)کی ہینڈلنگ کرنے والی اپیرل کمپنی) نے زور دیا کہ فیس بک کو مزید اقداما ت نہ اٹھانے اور محفوظ رسائی کے اقدامات نہ کرنے پر ذمہ دار قرار دینا چاہیئے ۔
یورپی یونین کے ایسے واقعات کی طرح ،ایک نمایاں پاکستان ایم این سی ،ڈیسکون نے ایک رئیل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ فرم کے خلاف دعویٰ دائر کیا۔ڈیسکون نے فیس بک اور یوٹیوب سے سوشل میڈیا پر چلنے والے اشتہارات میں اپنے ٹریڈ مارک کے بلا جواز غیر قانونی استعمال کے حوالے سے رجوع کیا،تاہم اس قسم کی خلاف ورزی ان کے نوٹس میں لانے کے باوجود ان کی جانب سے کسی قسم کا تسلی بخش جواب نہ دیا گیا ،چنانچہ ڈیسکون کی جانب سے ٹریڈ مارک کے بلا جواز غیر قانونی استعمال ،غیر شفاف مسابقت اور نقصان کی مد میں فیس بک کے خلاف50ملین امریکی ڈالر زاورثانوی خلاف ورزی/تعاون پر یو ٹیوب کے خلاف5ملین امریکی ڈالرز ہرجانہ کا دعویٰ دائر کیا گیا ۔
یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ تھا جس میں کسی بھی عدالت نے فیس بک اور یو ٹیوب کے خلاف حکم امتناع جاری کیا اور حقوق دانش ٹریبونل لاہور نے فیس بک اور یوٹیوب کو اپنے ڈیجیٹل ہوسٹنگ پلیٹ فارم کے ذریعے ڈیسکون کے حقوق دانش کی خلاف ورزی،اس میں سہولت یا تعاون فراہم کرنے سے روکنے کے احکامات جاری کئے،اس سے قبل کسی بھی عدالت نے اپنے حکم امتناع میں کسی کو بھی اشتہارات یا مارکیٹنگ کیلئے اپنے پلیٹ فارم کی فراہمی روکنے سے متعلق احکامات صادر نہیں کئے تھے ۔

اس کی روشنی میں،فیس بک کو فعال طور پر کام کرنا چاہیئے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اشتہارات میں ٹریڈ مارک کے بلا جواز غیر قانونی استعمال یا مصنوعات کے ڈسپلے کو روکنے کے حوالے سے مزید مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔اشتہاری کاروبار میں سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہونے کے ناطے،فیس بک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ورچوئلی طور پر ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔لہذا،سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس بات کو یقینی بنانے کیلئے معقول اقدامات کرنا ہونگے کہ کوئی ایک طرح کا ٹریڈ مارک اور سروس مارک استعمال کرکے معروف برانڈ کے مارک کی خلاف ورزی کا مرتکب نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں