وفاقی وزیر داخلہ کی قانون توڑنے والوں سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ جہاں حالات خراب ہوں گے وہاں 24 گھنٹے کیلئے موبائل فون بند ہونگے۔

دوسری جانب ملک بھر میں احتجاج کے باعث ٹریفک درہم برہم ہو کر رہ گئی، لاہور، راولپنڈی، کراچی اور دیگر شہروں میں اہم شاہراہیں بند ہیں، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

لاہور میں چونگی امرسدھو، فیروز پور روڈ، قصور روڈ، یتیم خانہ چوک، شاہدرہ، درواغہ والا، بیگم کوٹ، امامیہ کالونی، سکیم موڑ تاحال بند ہے۔ لوگوں کےمعمولات زندگی متاثر جبکہ سڑکوں کی بندش سے شہری خوار ہوگئے۔

گوجرانوالہ، قصور، مریدکے، پتوکی، ساہیوال، خانیوال، نارووال، بہاولنگر، مانگامنڈی میں بھی سڑکیں بلاک ہیں، جس سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہے۔ اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ، پشاور میں بھی شہری سڑکوں کی بندش سے پریشان ہیں۔ راولپنڈی کے داخلی اور خارجی راستوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں ہیں۔

کوئٹہ لک بائی پاس پر بھی مظاہرین بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ لسبیلہ میں حب پل پر احتجاج سے ٹریفک معطل ہے۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں بھی سڑکیں بلاک ہونے سے شہری اذیت کا شکار ہیں، لوگوں کیلئے منزل پر پہنچنا عذاب بن گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں