سائنسدانوں نے شہد کی مکھیوں سے کورونا کی تشخیص میں کامیابی حاصل کرلی

سائنسدانوں نے شہد کی مکھیوں کو تربیت فراہم کی جن کی سونگھنے کی حس بہت تیزی ہوتی ہے اور نمونوں میں انہوں نے سیکنڈوں میں بیماری کی تشخیص کردی۔ رپورٹسائنسدانوں نے شہد کی مکھیوں سے کورونا کی تشخیص میں کامیابی حاصل کرلی۔ تفصیلات کے مطابق میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہالینڈ کے سائنسدانوں نے شہد کی مکھیوں کے ذریعے کووڈ 19 کی تشخیص میں کامیابی حاصل کی ، اس مقصد کے لیے سائنسدانوں نے شہد کی مکھیوں کو تربیت فراہم کی جن کی سونگھنے کی حس بہت تیزی ہوتی ہے اور نمونوں میں انہوں نے سیکنڈوں میں بیماری کی تشخیص کردی۔
رپورٹ کے مطابق شہد کی مکھیوں کی تربیت کے لیے ہالینڈ کی ویگی نگن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے انہیں کورونا سے متاثر مریضوں کے نمونے دکھانے کے بعد میٹھا پانی بطور انعام دیا جب کہ عام نمونوں پر کوئی انعام نہیں دیا گیا۔ سائنسدانوں کے مطابق انہوں نے عام شہد کی مکھیون کو کورونا کے مثبت نمونوں کے ساتھ میٹھا پانی دیا ، شہد کی مکھیاں مثبت نتیجے کی صورت میں میٹھے پانی کو پینے لگی جس سے نتیجے کی نشاندہی ہوتی ہے ، عوماً کورونا کے نتیجے کے حصول میں کئی گھنٹے یا دن لگتے ہیں مگر شہد کی مکھیوں کا ردعمل سب سے تیز ہوتا ہے ، یہ طریقہ کار سستا بھی ہے اور ان ممالک کے لیے کارآمد ہے جن کو ٹیسٹوں کی کمی کا سامنا ہے۔
دوسری طرف انڈونیشیا کے ائیرپورٹ پر مسافروں کے ساتھ خطرناک دھوکہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ، جہاں مسافروں کے کورونا ٹیسٹ کے لیے سیمپلز استعمال شدہ سویبز سے لیے جانے کا انکشاف ہوا ، اس حوالے سے پولیس نے بتایا کہ نوسرباز گروہ نے پیسے بٹورنے کے چکر میں استعمال شدہ سویبز سے ہی مسافروں کے کورونا ٹیسٹ کر ڈالے ، انڈونیشین پولیس کا کہنا ہے کہ 10 ہزار سے زائد مسافروں کے استعمال شدہ سویبز کے ذریعے ٹیسٹ کیے گئے جس سے نورباز گروہ نے ہزاروں ڈالرز بھی کمائے۔ پولیس کے مطابق انڈونیشیا کی ایک بڑی دوا ساز کمپنی کیمیا فارما کے پانچ ملازمین کو 27 اپریل کو گرفتار کیا گیا ، ان ملزمان پر ریپڈ اینٹیجن سویبز کی کٹس دھونے اور دوباری پیک کرنے کرنے کا الزام عائد ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں