بھارت میں بلیک فنگس انفیکشن نے کورونا سے صحتیاب ہونیوالوں کو اپاہج کرنا شروع کر دیا

انڈیا، بلیک فنگس انفیکشن کورونا سے صحتیاب ہونیوالوں کو اپاہج بنا رہا ہے
بھارت میں کورونا کی موجودہ صورتحال تباہ کن ہے، ہیومن رائٹس واچھارت جہاں کوروناوائرس کی تباہ کن دوسری لہر جاری ہے، وہیں بلیک فنگس کے نام سے مشہور میوکورمائیکوسز ڈاکٹروں اوروبا سے صحت یاب ہونے والے افراد میں تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ ایک نایاب مگر خطرناک فنگل انفیکشن ہے جو ناک، آنکھوں یا کبھی کبھی دماغ پر اثر انداز ہوکر کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد کو اپاہج بنا رہا ہے ۔ممبئی سے تعلق رکھنے والے آنکھوں کے سرجن ڈاکٹر اکشے نائر نے بتایا ہے کہ میوکورمائیکوسز ایک انتہائی نایاب قسم کا انفیکشن ہے جو کہ مٹی، پودوں، کھاد، اور گلے سڑے پھلوں اور سبزیوں میں پائے جانے والی پھپوندی سے پھیلتا ہے۔ ڈاکٹر نائر نے کہاکہ یہ ناک کی نالیوں، دماغ اور پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور ذیابیطس کے مریضوں یا ایسے لوگوں جن کا مدافعاتی نظام انتہائی کمزور ہو جیسے کہ ایڈز یا سرطان کے مریض، ان کے لیے یہ انفیکشن مہلک بھی ہو سکتا ہے۔
بھارت میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میوکورمائیکوسز یا بلیک فنگس کے کیسز میں تیزی اس لیے آ رہی ہے کیونکہ کورونا کے مریضوں کے علاج کیلئے سٹیرائیڈز کا بہت زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے،جس کے باعث ان کا مدافعتی نظام کمزور ہونے لگتا ہے اور قوتِ مدافعت میں یہ کمی میوکورمائیکوسز کے بڑھتے کیسز کی وجہ ہے۔میوکورمائیکوسز انفیکشن میں مبتلا تقریبا 50فیصد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔
دسمبر سے فروری کے دوران ڈاکٹر نائر اورانکے چھ ساتھیوں نے پانچ مختلف شہروں ممبئی، بینگلورو، حیدرآباد، دلی، اور پونے میں اس انفیکشن کے 58کیسز رپورٹ کیے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر نے کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے کے 12سے 15دن میں یہ انفیکشن رپورٹ کیا ہے۔ گذشتہ دو ماہ میں ممبئی کے انتہائی مصروف سائیون ہسپتال میں 24کیسز سامنے آئے ہیں۔ ادھر ہیومن رائٹس واچ سائوتھ ایشیا کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہاہے کہ بھارت میں کورونا ووائر س سے متاثرہ افرادکی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہورہا ہے جبکہ ادویات ، آکسیجن ، اور ویکسین کی شدیدقلت کا سامنا ہے ۔
بھارت میں مہلک وبا کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تباہ کن ہے۔انہوںنے کہاکہ بھارت میں لوگ کوویڈ 19 سے مر رہے ہیں کیونکہ انہیں علاج معالجے، ادویات اور آکسیجن کی سہولت دستیاب نہیںہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ صورتحال لوگوں کی موت کے بعد جاری رہتی ہے کیونکہ لوگوںکو اپنے مردے جلانے یا ان کی تدفین کیلئے بھی گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ مینا کشی گنگولی نے کہاکہ اگرچہ بھارت کے پاس دنیا بھر کے تجربات سے استفادہ کرنے کا سال بھر کا وقت تھا تاہم مودی کی سربراہی میں بھارتی حکومت ایسا کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں