پاکستان سے آکسیجن درآمد کرنے کی تجویز مسترد، مودی پر امن پسندوں کی تنقید

مشرقی پنجاب کے وزیر اعلی امارندر سنگھ کی طرف سے بھارتی سرکار سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ اسے پاکستان سے آکسیجن درآمد کی اجازت دی جائے کیونکہ مشرقی پنجاب سمیت ملک کے کئی حصوں میں آکسیجن کی شدید کمی ہے۔ لیکن بھارتی سرکار نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ اس بات کے انکشاف پر پاکستان اور بھارت کی سول سوسائٹی چراغ پا ہے۔
دونوں ممالک میں سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد اس حکومتی فیصلے کی پرزور مذمت کر رہے ہیں۔ کچھ کے خیال میں یہ فیصلہ سیاسی ہے، جب کہ کچھ اسے بد گمانی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور کچھ کے خیال میں یہ فیصلہ مودی کی ضد اور ہٹ دھرمی کا عکاس سے۔مشرقی پنجاب کے دارالحکومت چندی گڑھ سے تعلق رکھنے والے معروف دانشور، صحافی اور تجزیہ کار چنچل منوہر سنگھ کا کہنا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی اور بحران کی اس کیفیت میں بھارتی حکومت کو اپنی جھوٹی شان و شوکت کے پردے کے پیچھے نہیں چھپنا چاہیے اور اپنی ضد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان سے آکسیجن درآمد کرنی چاہیے۔انہوں نے بتایا،”پنجاب کو اس وقت نوے میٹرک ٹن ا?کسیجن کی ضرورت ہے جو جھاڑکھنڈ سے لائی جارہی ہے۔ اس میں 40 سے 48 گھنٹے لگ جاتے ہیں جبکہ یہی آکسیجن پاکستان کے پنجاب سے بہت کم وقت میں لائی جا سکتی، جس سے نا صرف مشرقی پنجاب کو فائدہ ہو سکتا ہے بلکہ نئی دہلی اور دوسری ریاستوں کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے، جہاں بحران بہت گھمبیر ہے۔ہزاروں کی تعداد میں لوگ پریشان حال ہیں اور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ آٹھ مئی کو ایک اجلاس میں پنجاب سے اراکین پارلیمنٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب امارندرسنگھ سے اپیل کی ہے کہ وہ وزیر اعظم مودی سے ایک بار پھر بات کرکے ان کو آکسیجن کی درآمد پر قائل کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں