اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بھرپور جنگ کا خدشہ

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بھرپور جنگ کا خدشہ
اسرائیل اور فلسطین کی کشیدگی کی صورتحال مکمل جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کردیااسرائیل اور فلسطین کے درمیان بھرپور جنگ کا خدشات کا ظہار کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے مندوب برائے مشرق وسطیٰ جیمی مارک گولڈ ریک نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کی کشیدگی کی صورتحال مکمل جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے ، دونوں ممالک کے دوران بھرپور جنگ کا خدشہ ہے۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کے مندوب برائے مشرق وسطیٰ کہتے ہیں کہ کشیدگی کے شعلوں کو فوری طور پر بجھانا ہوگا ، غزہ میں جنگ کی قیمت تباہ کن ہے جسے عام شہری چکا رہے ہیں ، فریقین کو کشیدگی میں کمی کی ذمہ داری لینا ہوگی۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز ماہ رمضان کے جمعتہ الوداع کے موقع پر نماز کی ادائیگی کے لیے ہزاروں فلسطینی مسجد اقصیٰ پر جمع ہوئے اور مسجد کے باہر احاطے میں نماز ادا کی ، اس دوران اسرائیلی فوج نے روایتی جارحیت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کو مسجد کے اندر داخل ہونے سے روکنے کے لیے نمازیوں پر ربڑ کی گولیاں برسائیں ، آنسو گیس کی شیلنگ کی اور کریکر پھینکے جس سے 200 سے زائد فلسطینی زخمی ہوگئے۔بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی فضائی بمباری کے نتیجے میں اب تک 24 افراد شہید اور 180 زخمی ہو چکے ہیں ، شہدا میں بچے بھی شامل ہیں ، مظلوم فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیل نے اس وقت وحشیانہ بمباری کی ہے جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہے اورعید الفطر میں صرف دو دن رہ گئے ہیں ، اسرائیلی بمباری میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے ہر طرف چیخ و پکار سنائی دیا ، زخمیوں کی آہ و بکا سے آسمان لرز اٹھا اور خوف و دہشت کے عالم میں ماں باپ اپنے معصوم بچوں کو بچانے کی کوشش میں ادھر ادھر بھاگتے رہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملے کے نتیجے میں حماس کے کمانڈرز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا جب کہ فلسطین کے صدر محمود عباس نے غزہ پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ عید الفطر کی مناسبت سے منعقد کی جانے والی تقاریب اب نہیں ہوں گی ، فلسطین کے صدر نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی جرائم کو روکنے کے لیے فوری طور پر اقدامات اٹھائے۔
فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے ساحلی شہر پر راکٹوں سے حملہ کیا ، جس کے نتیجے میں اسرائیل کی تیل پائپ لائن اور آئل ریفائنری تباہ ہوگئی ، حماس کے حملوں میں دو اسرائیلیوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں ، حماس کی جانب سے اسرائیل پر سو سے زائد راکٹ حملوں کا دعوی کیا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق حماس نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر 130 راکٹ داغے ہیں ، حملہ غزہ کے رہائشی علاقوں میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے بعد کیا گیا ، حماس کے جواب وار کے بعد اسرائیل نے تل ابیب کا بین الاقوامی ائیرپورٹ ہنگامی طور پر بند کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں