پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ ٹی ٹؤنٹی سیریز: بیتے دنوں کی عظمت پھر سے پانے کا موقع

دو ماہ قبل فروری میں جب ہینرخ کلاسن کی ٹی ٹؤنٹی ٹیم پاکستان مقابلے کے لیے آئی تھی تو اسے کم از کم ڈوین پریٹورئس، وان ڈر ڈوسن اور ڈیوڈ ملر جیسے کھلاڑی دستیاب تھے مگر اب انڈین پریمئیر لیگ سمیت دیگر وجوہ کی بنا پہ ان میں سے کوئی بھی دستیاب نہیں ہے۔ نتیجتاً بابر اعظم کی ٹیم کے پاس بھرپور موقع ہو گا کہ وہ ٹی ٹؤنٹی کرکٹ میں پاکستان کی کھوئی ہوئی ناقابلِ تسخیر پوزیشن دوبارہ حاصل کر سکے

فروری میں جنوبی افریقی ٹیم کو دورہ پاکستان میں ٹی ٹؤنٹی سیریز میں دو ایک سے شکست ہوئی تھی
گو کہ قائم مقام جنوبی افریقی کپتان ہینرخ کلاسن اپنی ٹیم کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں مگر حقیقت پسندانہ زاویے سے دیکھا جائے تو آج سے شروع ہونے والی دوطرفہ ٹی ٹؤنٹی سیریز میں ان کی ٹیم کی جیت کے امکانات نہایت قلیل ہیں۔

دو ماہ قبل فروری میں جب ہینرخ کلاسن کی ٹی ٹؤنٹی ٹیم پاکستان مقابلے کے لیے آئی تھی تو اسے کم از کم ڈوین پریٹورئس، وان ڈر ڈوسن اور ڈیوڈ ملر جیسے کھلاڑی دستیاب تھے مگر اب انڈین پریمئیر لیگ سمیت دیگر وجوہ کی بنا پہ ان میں سے کوئی بھی دستیاب نہیں ہے۔

نتیجتاً بابر اعظم کی ٹیم کے پاس بھرپور موقع ہو گا کہ وہ ٹی ٹؤنٹی کرکٹ میں پاکستان کی کھوئی ہوئی ناقابلِ تسخیر پوزیشن دوبارہ حاصل کر سکے۔ یہ جنوبی افریقہ کا ہی گذشتہ دورہ تھا جہاں پاکستان طویل عرصے بعد کوئی ٹی ٹؤنٹی سیریز ہارا تھا۔


فروری میں ڈوین پریٹورئس نے پاکستانی بلے بازوں کے اپنی بولنگ سے پریشان کر رکھا تھا
اُس شکست کے بعد کرکٹ کے اس فارمیٹ کی ٹیم پہلے جیسی نہ رہی اور آخر کار انتظامیہ میں ہول سیل تبدیلیاں بھی دیکھنے کو ملیں۔ ان میں سے اہم ترین تبدیلی سرفراز احمد سے قیادت کی ذمہ داریاں واپس لے کر زمامِ کار بابر اعظم کو تھمانا تھی۔

لگ بھگ دو سال کے مشکل سفر کے بعد اب کہیں پاکستانی ٹیم دوبارہ اس مقام پہ آ کھڑی ہوئی ہے کہ یہ ٹی ٹؤنٹی کرکٹ میں اپنا سٹیٹس بحال کر پائے، اور یہی وہ لمحہ ہے کہ پاکستان اپنا بہترین کمبینیشن بھی ڈھونڈ نکالے۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ پاکستان کو شرجیل خان کی بطور اوپنر خدمات دستیاب ہوں گی۔

اگرچہ ان کی سلیکشن اور فٹنس کے معاملات خاصے متنازع رہے مگر مصباح الحق نے انھیں کچھ فٹنس اہداف دے رکھے تھے۔ اگر وہ اہداف حاصل کر چکے ہیں تو یقینی طور پہ آج کے میچ کا حصہ ہوں گے۔

اس سے بھی زیادہ خوش کن بات یہ ہے کہ ون ڈے سیریز میں پاکستان کے ہیرو فخر زمان بھی کافی عرصے کے بعد اس ٹی ٹؤنٹی سائیڈ میں انتخاب کے لیے دستیاب ہوں گے۔

اس وقت وہ ون ڈے میں اپنے کرئیر کی بہترین رینکنگ پہ آ چکے ہیں اور چاہیں گے کہ ٹی ٹؤنٹی میں بھی اپنی تباہ کن بلے بازی کے جوہر دکھائیں۔


ون ڈے سیریز میں پاکستان کے ہیرو فخر زمان بھی کافی عرصے کے بعد اس ٹی ٹؤنٹی سائیڈ میں انتخاب کے لیے دستیاب ہوں گے
چونکہ یہ سیریز معمول کے تین مقابلوں کی بجائے چار میچز پہ مشتمل ہے، اس لیے عین ممکن ہے کہ اگر پاکستان فیصلہ کن برتری کرنے میں کامیاب ہو جائے، تو وہ سکواڈ میں موجود محمد وسیم اور ارشد اقبال جیسے نوآموز کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل ڈیبیو کا موقع دے۔
جنوبی افریقی ٹیم کی بدقسمتی کہیے کہ اسے اپنے نئے کپتان ٹیمبا باووما کی خدمات بھی میسر نہیں ہوں گی جو آخری ون ڈے میچ میں ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہوئے تھے اور تبھی ان کے ٹی ٹؤنٹی سیریز میں شرکت کے امکانات معدوم تر ہو گئے تھے۔

ایسے میں پاکستان کے پاس بھرپور موقع رہے گا کہ اپنی اتھارٹی کو مستحکم کرے اور اکتوبر میں ہونے والے ٹی ٹؤنٹی ورلڈ کپ کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کرے۔

پہلے ٹی ٹؤنٹی کے لیے پچ اور موسم کی صورتِ حال

وانڈررز کی وکٹ عمومی طور پہ بیٹنگ لائنز کو بڑے مجموعے دیتی رہی ہے، سو یہاں بھی سکور بورڈ پہ بڑا مجموعہ دکھائی دینے کا امکان رہے گا۔

جوہانسبرگ کے موسم میں اگرچہ شدت ممکن ہے مگر میچ بہر حال اس سے محفوظ رہے گا۔

پاکستان نے ایک روزہ میچوں کی سیریز دو ایک سے جیت لی تھی
پہلے میچ کے لیے دونوں ٹیموں کی ممکنہ الیون یہ ہو سکتی ہے۔

جنوبی افریقہ:1۔ ائیڈن مارکرم 2۔ یانیمن میلان 3۔ فان بلیون 4۔ کائل ویرینے 5۔ ہینرخ کلاسن 6۔ اینڈیل فیلکوائیو 7۔ ویان ملڈر 8۔ جارج لنڈہ 9۔ بیورن ہینڈرکس 10۔ ڈیرن ڈوپافلون 11. تبریز شمسی

پاکستان: 1. فخر زمان 2۔ شرجیل خان 3. بابر اعظم 4۔ محمد حفیظ5۔ حیدر علی 6۔ محمد رضوان 7۔ فہیم اشرف 8۔ حسن علی 9۔ شاہین شاہ آفریدی 10. حارث رؤف 11. عثمان قادر

میچ پاکستانی وقت کے مطابق آج یعنی سنیچر کو شام ساڑھے پانچ بجے شروع ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں