ریلوے پریم یونین کا آئندہ بجٹ میں 100 فیصد تنخواہیں بڑہانے کا مطالبہ

لاہور(این بی ٹی وی ) ریلوے پریم یونین نے آئندہ بجٹ میں تنخواہوں میں سوفیصد اضافے،سکیلوں میں نظرثانی،ریلوے کی نجکاری کے مجوزہ حکومتی پلان اور ریلوے کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مساوی بجٹ دینے کے مطالبات کے سلسلہ میں 8جون کو ملک بھر کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز پر احتجاجی ریلیاں کرنے کا اعلان کردیا۔

مرکزی چیئرمین ضیاء الدین انصاری،صدرشیخ محمد انور، مرکزی سیکرٹری اطلاعات خالد محمودچوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے ملازمین کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو ملک بھر سے مزدور اسلام آباد کا رخ کر لیں گے،پریم یونین پاکستان کے سب سے بڑے فلاحی ادارے کی بندر بانٹ نہیں ہونے دے گی۔ مزدوروں کے حقوق کیلئے ہرجگہ آواز اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ریلوے چارٹرڈ کے مطابق ریلوے ایک فلاحی ادارہ ہے کمرشل ادارہ نہیں ہے، فلاحی ادارے نفع نقصان کی بنیاد پر نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہوکے لئے چلائے جاتے ہیں جن کی کارکردگی حکومتی مالی سپورٹ پر ہی ممکن ہوتی ہے،جس طرح موٹروے،میٹرو، اورنج ٹرین، سرکاری تعلیمی ادارے اور ہسپتال جیسے ادارے حکومت کی مالی مدد سے عوام کو سہولیات فراہم کرتے ہیں،اسی طرح ریلوے بھی پاکستان کا سب سے بڑاعوام کو سستی سفری سہولیات فراہم کرنے والا ادارہ ہے، موجودہ اور سابقہ حکومتوں نے اس ادارے کو اپنے سیاسی مفادات اور فلاحی ادارے کے طور پر استعمال کیا ہے لیکن جس مالی مدد کی ریلوے کو حکومت سے ضرورت تھی ریلوے کو اس سے محروم رکھا گیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریلوے میں سیاسی بنیادوں پر بھرتی کی بجائے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کے بچوں کا کوٹہ مقرر کیا جائے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ریلوے ملازمین کو ٹی اے اور گریجوٹی کی ادائیگی نہیں کی جارہی ہے جبکہ تعمیراتی فنڈز کے نام پر تنخواہوں سے پانچ فیصد ناجائز کٹوتی کی جارہی ہے،اس کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کا جس پیکیج کا وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے پاکستان ریلوے میں فوری طور پر اس پر عمل درآمد کروایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں