جن پاکستانیوں کو سعودیہ میں پاکستانی سفارت خانے اور قونصلیٹ سے شکایات رہی ہیں، وہ سب کچھ بتا سکتے ہیں“

سعودیہ میں مقیم پاکستانیوں کے لیے سوال نامہ تیار کر لیا گیا،جس میں سفارتی عملے کی مبینہ بدسلوکی سے متعلق 20 سوالات کے جوابات مانگے گئے ہیںاعظم پاکستان عمران خان نے سعودیہ میں پاکستانی سفارت خانے اور قونصل خانے کی کارکردگی سے متعلق شکایات وصول ہونے کے بعد پاکستانی سفیر سمیت سفارتی عملے کے سات ارکان کو واپس بُلالیا تھا۔ سعودیہ میں مقیم پاکستانیوں کو درپیش مشکلات اور سفارتی عملے کی مبینہ بدسلوکی کی شکایات کی تحقیقات کے لیے قائم تحقیقاتی کمیٹی نے کام شروع کر دیا ہے۔
اُردو نیوز کے مطابق کمیٹی نے پاکستانی تارکین کے لیے بالخصوص ایک سوال نامہ تیار کیا ہے جس میں 20 سوالات کے جوابات مانگے گئے ہیں۔اس کے علاوہ سفارت خانے میں خدمات کے معیار، عملے کے رویے، شکایات کے ازالے کے بارے میں معلومات اور بہتری کے لیے تجاویز بھی مانگ لی ہیں۔سوال نامے کے جواب دینے والے افراد اگر چاہیں تو اپنی شناخت ظاہر کریں اور اگر نہ چاہیں تو وہ ظاہر کرنے کے پابند نہیں ہیں۔سوال نامے میں ابتدائی ذاتی معلومات کے علاوہ پوچھا گیا ہے کہ وہ کسی کام کے لیے گزشتہ پانچ سال میں وہ کتنی بار سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے یا قونصل خانے گئے ہیں؟ اس دوران سفارتی عملے کا رویہ کیسا تھا؟ اگر خدمات کا معیار اچھا نہیں تھا تو اس میں کیا خرابیاں تھیں؟ اپنا کام کرانے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ اگر کام نہیں ہوا تو ایسا کتنی بار ہوا؟ کام نہ ہوسکنے کے بارے میں کسی مجاز افسر نے مطمئن کیا؟کیا سفارت خانے کے کسی عملے کے فرد نے خود یا کسی ایجنٹ کے ذریعے رشوت کے ذریعے کام کر دینے کی پیش کش کی؟ کیا سعودی عرب میں پاکستانی سفارتی عملے کے خلاف شکایات کے ازالے کا کوئی نظام موجود ہے؟ اگر ہے تو اس پر شکایت کرنے سے کیا ردعمل ملتا ہے؟سوال نامے میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ اگر پاکستانی شہریوں کو سفارت خانے میں مہیا کی جانے والی خدمات میں بہتری لانے کا موقع ملے تو وہ کیا بہتری لانا چاہیں گے؟ان سوالات کے جواب بھیجنے والوں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے جوابات کے ساتھ کوئی بھی دستاویز، تصویر یا ویڈیو وغیرہ بھیج سکتے ہیں جبکہ ضرورت پڑنے پر معائنہ کمیشن ان سے رابطہ کرکے مزید معلومات بھی مانگ سکتا ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے تحقیق مکمل ہونے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کو رپورٹ بھیجی جائے گی۔اگر سفارتی عملہ ذمہ دار پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کا امکان ہے۔ پاکستانیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس سوال نامے کو باقی افراد تک بھی پہنچائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق سعودیہ میں مقیم پاکستانی عید کے بعد تک سوال نامہ پر کرکے واپس بھیج سکتے ہیں۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں