شہباز شریف نہیں بتا سکے کہ 7ارب کی 75ٹی ٹیز بھجوانے والے کون ہیں

شہباز شریف نہیں بتا سکے کہ 7ارب کی 75ٹی ٹیز بھجوانے والے کون ہیں،
ان کے صاحبزادے ‘اہلیہ اوررشتہ داروں سے بھی اس بارے پوچھا جاسکتا ہے ، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیبوزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ ن لیگ یہ تاثر دے رہی ہے کہ نیب نے عدالت میں کہہ دیا کہ کمیشن کا معاملہ نہیں ہے ‘ یہ کیس تو آمدن سے زائد اثاثوں کا ہے ‘ شہباز شریف یہ نہیں بتا سکے کہ ٹی ٹیز بھیجنے والے کون ہیں ‘ 7ارب مالیت کی 75ٹی ٹیز بھیجنے والوں نےتو شاہد لاہور بھی نہ دیکھا ہو لیکن شریف برادران نے انھیں کاغذوں میں لندن پہنچا دیا ہے ‘ابھی تو شریف فیملی کے خلاف حدبیبہ پیپر ملز کیس بھی ری اوپن ہونے جارہا ہے ‘ نواز اور شبہاز وائٹ کالر کرپشن کے ماہر ہیں، انھیں یونیورسٹی آف کرپشن میں وائس چانسلر ہونا چاہیے تھا ۔وہ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کر رہے تھے۔ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ ٹی ٹیز دوقسم کی ہیں ‘ایک قانون کے مطابق ٹی ٹی بھیجی جاتی ہے جس میں بھیجنے والا بھی سامنے ہوتا ہے اور ایک ٹی ٹی ایسی ہے جس میں بھیجنے والا کا کوئی پتہ نہیں ہوتا ‘شہبازشریف کے کیس میں بھی صورتحال یہ ہے کہ 7ارب کی 75ٹی ٹیزبھیجنے والوں کا پتہ ہی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی کیس میں عدالت ہمیشہ سوال پوچھتی ہے ‘ فاضل جج پوچھتا ہے کہ جرم کیا ہے تو اس کا جواب ہاں یا نہ میں آتا ہے ‘ تمام سوالات کے جوابات کو فیکٹس نہیں کہا جاتا ، عدالت جو فیصلے میں لکھتی ہے وہ ہی حتمی ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیب سیکشن 9Aً ‘5 کے تحت شبہاز شریف سے 7ارب کی ٹی ٹیز کے ذرائع پوچھ رہا ہے ‘اگر شہباز شریف پبلک آفس ہولڈرز نہ ہوتے تو ٹیکس کا معاملہ ہوتا لیکن 2008سے 2018ت وزیراعلی رہ چکے ہیں، ان کے صاحبزادے ‘اہلیہ اوررشتہ داروں سے بھی اس بارے پوچھا جاسکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والی مجموعی آبادی کا 68فیصد کم آمدن وال لوگ ہیں ‘ پی ٹی آئی حکومت نے ایک نظام بنایا ‘ 73سالہ تاریخ میں مورٹ گیج انڈسٹری متعارف نہیں ہوئی ‘ یہ کام بھی موجودہ حکومت ے کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ 3فیصد پر کم آمدن والوں کو آسان شرائط پر قرض دے رہے ہیں ‘جو کرایہ دے رہے تھے وہ اس سے قسط ادا کرکے وہ اپنے گھر کے مالک بنا جائیں گے ‘ حکومت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر بھی آگے آرہا ہے ‘ نئی ہائو سنگ سکیموں میں بھی کم آمدن لوگوں کے لئے گھروں کا کوٹہ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں غریب ‘ریڑھی والوں کو بینک قرض نہیں دیتی تھی ‘حکومت 10لاکھ گھروں پر 3لاکھ روپے کی سبسڈی دے رہی ہے ‘پنجاب کی تمام تحصیلوں میں کم آمدن لوگوں کے لئے گھر بننے جارہے ہیں ‘یہ گھر ایک سال کی مدت میں مکمل ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں