شوکت ترین کو مہنگائی میں کمی لانے کیلئے وزارت خزانہ سونپی ہے،عمران خان

شوکت ترین کو مہنگائی میں کمی لانے کیلئے وزارت خزانہ سونپی ہے،عمران خان
21 فیصد موٹرسائیکلوں اور20 فیصد گاڑیوں کی سیل میں اضافے کا مطلب معیشت درست سمت میں ہے، لوگوں کے پاس پیسہ آرہا ہے اسی لیے گاڑیاں خرید رہے ہیں، خطے میں اس وقت پاکستان میں پٹرول کی سب سے کم قیمت ہے۔ وزیراعظم کی گفتگووزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ شوکت ترین کو مہنگائی میں کمی لانے کیلئے وزارت خزانہ سونپی ہے، 21 فیصد موٹرسائیکلوں اور20 فیصد گاڑیوں کی سیل میں اضافے کا مطلب معیشت درست سمت میں ہے، لوگوں کے پاس پیسہ آرہا ہے اسی لیے گاڑیاں خرید رہے ہیں، خطے میں اس وقت پاکستان میں پٹرول کی سب سے کم قیمت ہے۔
انہوں نے براہ راست عوام کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ شوکت ترین کو اس لیے لایا کہ مہنگائی میں کمی لانے کیلئے اقدامات کریں۔ سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے۔ خطے میں اس وقت پیٹرول کی سب سے کم قیمت پاکستان میں ہے۔ ماضی میں مہنگے معاہدوں کی وجہ سے آج بجلی مہنگی ہے۔ اس طرح کے معاہدے کیے گئے کہ اگرحکومت بجلی خریدے یا نہ خریدے پیمنٹ کرنا پڑے گی۔قطر سے ایل این جی کا کنٹریکٹ بھی سابقہ حکومت نے کیا۔ کیپسٹی پیمنٹ کا مطلب بجلی استعمال کریں یا نہ کریں لیکن پیمنٹ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ آج ڈالر152 پرآگیا ہے جو 160سے اوپر چلا گیا تھا۔ 21 فیصد موٹر سائیکلوں اور20 فیصد گاڑیوں کی سیل میں اضافہ ہوا ہے۔ جس سے واضح ہوگیا معیشت درست سمت میں ہے لوگوں کے پاس پیسہ آرہا ہے اس لیے گاڑیاں خرید رہے ہیں۔
کسانوں ک وبراہ راست سبسڈی دینگے۔وزیراعظم نے کہا کہ شہبازشریف باہر بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں۔ شہبازشریف پرصرف 700 ارب منی لانڈرنگ کا ایک کیس ہے۔ شہبازشریف اور نوازشریف کے بیٹے اربوں روپے کے گھروں میں رہ رہےہیں۔ شہبازشریف اور نوازشریف کے بیٹوں کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟ مشرف نے زرداری اور نوازشریف کو جو 2 این آراوز دیئے اس کا خمیازہ آج ملک بھگت رہا ہے۔
جہانگیرترین نے کہا کہ ناانصافی ہو رہی ہے۔ آج تک مخالف سےناانصافی نہیں کی تو جہانگیرترین سے کیسے کرسکتا ہوں۔ جنہوں نے چینی مہنگی کی ہے ان کومعاف نہیں کروں گا چاہے میری حکومت چلی جائے۔ 100ارب روپے عوام کی جیبوں سے نکل کر شوگرملز مالکان کے پاس چلا گیا۔ 5 سالوں میں شوگرملوں نے10ارب ٹیکس دیا اور29 ارب کی سبسڈی لی۔ مافیا کو نہیں چھوڑوں گا لیکن ناانصافی کسی سے نہیںانہوں نے کہا کہ میں نے بیرون ملک اپنا فلیٹ بیچا اور پیسہ پاکستان لایا لیکن عدالت میں اس کا جواب دیا۔ عدالتیں آزاد ہیں،اگر آپ بےقصور ہیں تو پاکستان آئیں۔ اگر نوازشریف نے چوری نہیں کی توعدالتوں کا سامنا کیوں نہیں کرتے۔ جب تک زندہ ہوں شریف خاندان کو نہیں چھوڑوں گا۔ اس بارشریف خاندان کو این آراو نہیں ملے گا۔ میں اقتدار میں رہوں نہ رہوں ان کو کسی صورت نہیں چھوڑوں گا۔
مریم نواز کے نام پر لندن میں 4 بڑے بڑے محل ہیں۔ ہمیں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ملا۔ زرمبادلہ کے ذخائر10ارب ڈالرز سے گر چکے تھے۔ یواےای، سعودی عرب اور چین اگر مدد نہ کرتے تو ڈیفالٹ کرجاتے۔ نوازشریف جھوٹ بول کر باہر چلے گئے ان کے بیٹے باہر ہیں۔ برطانوی وزیراعظم ان گھروں میں نہیں رہ سکتا جن میں ان کے بچے رہ رہے ہیں۔ نوازشریف کے بیٹے اربوں کے گھرمیں رہتے ہیں نہیں بتاتےکہ پیسہ کہاں سے آیا؟انہوں نے کہا کہ یہ پہلی حکومت ہے جو ماحولیات کی فکر کے حوالے سے فکرمند ہے۔
اسلام آباد اورلاہور میں 20 سالوں میں ڈیڑھ گناہ سے زیادہ بڑھ گئے۔ شہروں کیلئے ماسٹر پلان بنا رہے ہیں، گرین ایریاز کو بچانا ہے۔ مری اور نتھیا گلی کی طرح سیاحت کیلئے مزید 20 مقامات پر کام کررہے ہیں۔ پاکستان میں سوئٹزرلینڈ سے زیادہ خوبصورتی ہے لیکن قانون نہیں۔ عمران خان نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے مسجدالاقصیٰ میں بہت ظلم کیا ہے۔ پاکستان نے اسرائیلی مظالم کی بھرپور مذمت کی ہے۔
محمد بن سلمان کیساتھ بھی فلسطین ایشو پر بات کی۔ تمام مسلمان ممالک کو فلسطین ایشو پر یکجا ہونا پڑےگا۔ نیوزایجنسی کے مطابق پاکستان میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ڈھنڈوں سے سپریم کورٹ پر حملہ کیا اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے سپریم کورٹ کے دیگر ججز کو پیسے دیے تا کہ وہ چیف جسٹس کو باہر نکال سکیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ قانون کی بالادستی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک چیف جسٹس کو باہر نکالا اور مجھے فخر ہے کہ پرویز مشرف کے اقدام کیخلاف جدوجہد کی اور مجھے پابند سلاسل کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ دو لیڈر اپنے بڑے بڑے محلات میں رہنے کے لیے بیرون ملک فرار ہوگئے تھے۔عمران خان نے کہا کہ ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں اس لیے نیب اور عدلیہ کے معاملات اور امور میں مداخلت نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ نے انصاف قائم کرنے کا حکم دیا اور دراصل یہ جہاد ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 30 سال سیاسی نظام میں رہ کر ملک کو لوٹا ہے، یہ سارا مافیا ہے جو قانون کی بالا دستی نہیں چاہتا۔ عمران خان نے کہا کہ چینی مافیا بھی نہیں چاہے گا کہ ادارے فعال ہوں اور مسابقت کا ماحول پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے عوام کو میرا ساتھ کھڑا ہونا ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پہلی بار قانون کی بالادستی کی جنگ اس وقت ہوئی جب مشرف نے چیف جسٹس کو نکالا، خود کو بڑے لیڈر کہنے والے ملک سے بھاگ گئے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں پاکستان کے ساتھ ساتھ بڑا ہوا ہوں، کرکٹ کی وجہ سے پوری دنیا دیکھی اور وہاں کا سسٹم دیکھا، دنیا کی تاریخ ہے کہ جو قوم اوپر گئی وہ قانون کی بالادستی کی وجہ سے اوپر گئی، بہترین معاشرے میں قانون غریب کو تحفظ دیتا ہے، ریاست مدینہ اس لیے عظیم ریاست بنی کیونکہ اس میں قانون سب کیلئے برابر تھا، سائیکل اور بھینس گائے چوری سے ملک تباہ نہیں ہوتا، جب ملک کاسربراہ اورطاقتورلوگ چوری کرتے ہیں توملک تباہ ہوجاتا ہے، ہر سال غریب ملکوں سے ایک ہزار ارب ڈالر چوری ہوکر امیرملکوں میں جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں