سندھ ہائيکورٹ نے کمشنر کراچی کو1 ماہ میں دودھ کی قیمت کا تعین کرنے کا حکم دے ديا

جمعرات کو ہائی کورٹ نے دوران سماعت کمشنر کراچی کو ہدايت کی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت سے مکینزم اور قیمت کا تعین کریں اور قیمتوں کےتعین کیلئے ازسرنومکینزم بنایا جائے۔ کمشنر کراچی نے بتایا کہ شہر میں تین سال پرانی دودھ کی قیمتیں لاگو ہیں اور قیمتوں پر نظر ثانی لینے کی ہدایت کی ہے۔ کمشنر کراچی نے بتایا کہ شہر میں دودھ کی سرکاری قیمت فی لیٹر قیمت 94 روپے ہے۔عدالت نے دودھ کی قیمت سے متعلق مختلف درخواستیں نمٹا دیں
س کےعلاوہ سندھ ہائی کورٹ نے زائد قیمت اورغیر معیاری دودھ کی فروخت کے خلاف آپریشن کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے گراں فروشی اورغیرمعیاری دودھ کے خلاف کارروائی نہ کرنے پربرہمی کا اظہارکیا اورریمارکس دئیےکہ نوٹیفیکیشن جاری ہوجاتا ہے مگرعمل درآمد نہیں ہوتا۔

عدالت نے واضح کردیا کہ یہ عوام کا براہ راست مسئلہ ہے اور ہم حکم پرعمل درآمد کرائیں گے۔سندھ ہائی کورٹ نے سندھ فوڈ اتھارٹی اورکمشنر کراچی کو 21 ستمبر تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

بدھ کو سماء کے مارننگ شو نیا دن میں گفتگو کرتے ہوئے ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر شاکر عمر گجر نے بتایا کہ 5 ستمبر کو کراچی میں دودھ کی قیمتوں سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ دودھ کی قیمت میں 20 روپے فی کلو اضافہ ہوگا۔

انھوں نے بتایا کہ دودھ کی قیمتیں نہ ڈیری فارمرزبڑھاسکتے ہیں اور نہ ہی بڑھارہے ہیں بلکہ دودھ کی قیمتیں بڑھانے کا اختیار وزارت تجارت کے ہاتھ میں ہے۔ اجناس کی قیمتیں بڑھنے سے دودھ کی پیداوار پر اخراجات بڑھ رہے ہیں اور جانور مہنگے ہونے سے دودھ کی قیمتیں بڑھانے پرمجبور ہیں۔

شاکر گجر نے بتایا کہ جن اجناس کی قیمتیں 15 روپے فی کلو تھیں وہ اب 45 سے 50 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں۔ پاکستان سے مکئی، بھوسا اور چوکر ایکسپورٹ ہورہا ہے۔ پاکستان میں موجود مویشیوں کی ضرورت کا 45 فیصد چارہ یہاں پیدا ہوتا ہے۔ تاہم اس چارے کو ایکسپورٹ کردیا جاتا ہے جس کا اثر دودھ اور گوشت کی پیداوار پر آتا ہے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ جو اجناس مویشیوں کی ضروریات ہیں ان کی ایکسپورٹ پر پابندی لگائی جائے۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کے باوجود 5 برس میں بھی دودھ کی قیمتوں کا کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ ملک کے دیگر شہروں میں دودھ کی قیمتیں بڑھنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جاچکا ہے اور وہاں 130 روپے فی کلو میں دودھ فروخت کیا جارہا ہے۔

شاکر گجر نے واضح کیا دودھ کی قیمتوں سے متعلق کرپشن کی جاتی ہے۔ اگر حکومت نے کوئی کریک ڈاؤن کیا تو ڈیری فارمرز گرفتاری کے لیے تیار ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں