اپوزیشن کی تحریکیں جہاں عروج پر ہیں وہیں مہنگائی کا جن بھی بے قابو۔۔

16 اکتوبر کو اپوزیشن جماعتوں کا گجرانوالہ میں جلسہ ہونے والا ہے جس میں بلاول بھٹو ذرداری , مریم نواز , نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان ممکنہ طور پر خطاب کریں گے۔ دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ گجرانوالہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا جبکہ حکومت کا دعوی ہے کہ عوام باہر نہیں نکلیں گے۔ 12 اکتوبر کو وزیراعظم کی ذیر صدارت پارٹی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے طے کیا کہ اپوزیشن کو حکومت کی طرف سے جلسوں کی کھلی آزادی ہوگی مگر قانون توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب اپوزیشن کیا کرے گی کیونکہ حکومت مطمئن ہے اسے کوئی بھی خطرہ نہیں ہے یہ تحریک ناکام ہوگی۔ ساتھ ہی مہنگائی کے خلاف کریک ڈاؤن بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے نجی ٹیلی ویثرن کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں سابق وزیر خارجہ خواخہ آصف , وزیر اطلاعات شبلی فراز اور اجمل بلوچ (آل پاکستان انجمن تاجران ,صدر) سے گفتگو کی گئی۔
ن لیگ کے ترجمان سے سوال کیا گیا کہ حکومت مطمئن ہے کہ آپکی تحریک ناکام ہوگی مہنگائی کے متعلق بھی وزیراعظم نے نوٹس لے لیا ہے جس کو بنیاد بنا کر آپ اپنی تحریک چلا رہے ہیں ۔
اس کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے حکومت فیل ہوگئی ہے اور اب ایک پرائیویٹ فورس کے ذریعے سے مہنگائی کنٹرول کی جا رہی ہے اور اس ٹائیگر فورس کا بنا ایک اعتراف ہے کہ وزیراعظم کی انتظامیہ مہنگائی کو قابو نہیں کر سکی۔
شبلی فراز سے پوچھا گیا کہ وزیراعظم نے تو اپریل اور مئی میں بھی کہا تھا کہ ٹائیگر فورس کو استعمال کریں گے ذخیرہ اندوزی نہیں کرنے دیں گے مگر ناکام رہے اور مہنگائی پھر بھی بڑھتی رہی تو اب کیا کرے گی ٹائیگر فورس ۔ انہوں نے جواب دیا کہ ٹائیگر فورس ایک وآلنٹیئر فورس ہے اور وہ اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں کا جائزہ لے گی ۔ اجمل بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ مہنگائی مافیا نےکی ہے تو تاجر تو مافیا نہیں ہے تاجر اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ 80 فیصد ادھار کا مال لے کر تاجر سارا دن بیچتا ہے ۔ڈالر ہم نے نہیں مہنگا کیا اور اگر ڈالر مہنگا ہوگا مہنگائی تو ہو گی ۔ چینی اور آٹے کا بحران ہم نے نہیں پیدا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں